مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے کئی شہروں میں شہریوں نے صدر ٹرمپ کی حکومت کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ مینیاپولیس میں مقامی افراد نے نہ صرف سڑکوں پر مظاہرے کیے بلکہ ایک خود ساختہ حفاظتی نیٹ ورک قائم کیا، جس کے ذریعے شہری ایک دوسرے کو امیگریشن پولیس کے چھاپوں کے بارے میں مطلع کرتے ہیں اور خطرے سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کرتے ہیں۔
مظاہرے جمعہ سے شروع ہوئے اور ہفتہ و اتوار کو بھی جاری رہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ احتجاج آئندہ بھی مختلف شہروں میں دیکھنے کو ملے گا۔ شہری تنظیموں اور سماجی اداروں نے بھی اس سلسلے میں فعال کردار ادا کیا۔
لاس اینجلس میں شہریوں نے اولورا اسٹریٹ سے مرکزی وفاقی عمارت تک مارچ کیا اور امیگریشن پولیس کے اخراج کے اقدامات کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ نبراسکا کے شہروں میں بھی شہریوں نے سڑکوں پر آ کر مظاہرے کیے، مطالبہ کیا کہ امیگریشن پولیس کے بجٹ کو کم کیا جائے اور ان کی سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جائے۔
نیبراسکا نرسز ایسوسی ایشن نے بھی تشدد اور ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ تمام واقعات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہوں۔ نئے سال کے بعد سے، کیتھ پورٹر، رینی گوڈ اور الیکس پرٹی امیگریشن پولیس کی تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے شہریوں میں احتجاج کی شدت بڑھا دی ہے۔
یہ مظاہرے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی شہری حکومت کی جارحانہ امیگریشن پالیسیوں کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے پڑوسیوں اور مهاجرین کے تحفظ کے لیے خود حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ